ہالینڈ کی پروازوں پر ٹیکس کا بحران: کیا آپ کی چھٹیاں مہنگی ہونے والی ہیں؟

ہالینڈ میں فضائی سفر پر بھاری ٹیکسوں کے نفاذ کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جس سےعام چھٹیاں گزارنے والوں کی پریشانیاں دگنی ہو سکتی ہیں۔ ہوائی کمپنیوں اور ٹریول ایجنٹس نے اس منصوبے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

از ذریعہ: Euronews Travel
ہالینڈ کی پروازوں پر ٹیکس کا بحران: کیا آپ کی چھٹیاں مہنگی ہونے والی ہیں؟

اس منزل کے لیے سفری ساتھی

اس علاقے میں جانے کے خواہشمند سفر کے شوقین افراد کے ساتھ چیٹ کریں اور اسے مل کر دریافت کریں۔

Suche Gay oder aufgeschlossene Person – Niederlande, Städtereise (Baden-Brugg , Schweiz)
vor 4 Wochen

Suche Gay oder aufgeschlossene Person

Claudio, 58 (مرد) کی تلاش ہے Reisepartner

Suche einen Mann, der Lust hätte, Ende August 2026 bis Anfangs September mit nach Amsterdam zu fahren im Auto. Das Alter ist egal. Ich mag gutes Essen, Gespräche, Amsterdam entdecken aber auch andere Ort in den Niederlanden. Bin unkomplizie...

Niederlande, Städtereise📍 Baden-Brugg , Schweiz
تفصیلات دیکھیں →
نیدر لینڈز کے لیے تمام Travel Buddies دکھائیں →

ہالینڈ کے مسافروں کے لیے بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کا خطرہ

ہالینڈ میں فضائی سفر کرنے والوں کے لیے ایک تشویشناک صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ملک میں فضائی ٹکٹوں پر ٹیکسوں میں ایک غیر معمولی اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں یہ ٹیکس یورپی یونین میں سب سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ٹریول ایجنسیوں اور ہوائی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام چھٹیاں گزارنے والے عام خاندانوں کے لیے ناقابل برداشت مالی بوجھ بن جائے گا، اور انہیں اپنی سالانہ چھٹی کے منصوبوں پر نظر ثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔

اس مسئلے کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے، حال ہی میں ایک سروے کیا گیا جس میں ہالینڈ کے ایک ہزار شہریوں نے حصہ لیا۔ اس سروے کے نتائج نے یہ ظاہر کیا کہ دو تہائی ڈچ مسافر اس بات پر فکرمند ہیں کہ اگر یہ مجوزہ ٹیکس لاگو ہوتے ہیں تو ہالینڈ سے فضائی سفر بہت مہنگا ہو جائے گا۔ سروے میں شامل افراد میں سے 71 فیصد کا خیال ہے کہ فضائی سفر ان لوگوں کے لیے بھی قابل رسائی رہنا چاہیے جن کی آمدنی کم ہے۔

’مساوی فضائی ٹیکس‘ مہم کا آغاز: صنعت کی جانب سے احتجاج

اس بڑھتی ہوئی تشویش کے پیش نظر، ڈچ ایسوسی ایشن آف ٹریول ایجنٹس اینڈ ٹور آپریٹرز (ANVR) نے ایک نئی مہم کا آغاز کیا ہے، جسے ’Gelijke Vliegtaks‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے ’مساوی فضائی ٹیکس‘۔ اس مہم کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ فضائی ٹیکسوں میں مجوزہ اضافے کے منصوبے پر نظر ثانی کرے۔ TUI، Corendon، Transavia اور KLM جیسی بڑی ہوائی کمپنیاں اور ٹریول ایجنسیاں بھی ANVR کے ساتھ اس مہم میں شامل ہو گئی ہیں۔

یہ کمپنیاں ہیگ کی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ ہالینڈ کے فضائی سفر کے ٹیکسوں کے ڈھانچے کے بارے میں دوبارہ غور کرے، جو ممکنہ طور پر اگلے سال سے پورے یورپی یونین میں سب سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ANVR کے ڈائریکٹر فرینک ریڈسٹیک نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں کے لیے سالانہ چھٹیاں تفریح ​​اور ایک ساتھ وقت گزارنے کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2027 تک، طویل سفر کی پروازوں پر ڈچ ایئر ٹریول ٹیکس تقریباً 30 یورو سے بڑھ کر 72 یورو فی ٹکٹ ہو جائے گا، جو کہ 140 فیصد کا ایک بڑا اضافہ ہے، اور یہ خاص طور پر پڑوسی ممالک کے مقابلے میں مسافروں پر ایک بہت بڑا مالی بوجھ ڈالے گا۔

پڑوسی ممالک سے موازنہ: مالیاتی بوجھ کی تفہیم

ANVR کے مطابق، اگر ٹیکس میں یہ اضافہ ہوتا ہے، تو 2027 سے ہالینڈ سے ترکی کا سفر کرنے والے چار افراد کے ایک خاندان کو صرف فضائی ٹیکسوں کی مد میں 190 یورو سے زیادہ ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، بیلجیم جیسے پڑوسی ملک سے اسی طرح کے سفر کے لیے اسی سائز کے خاندان کو صرف 40 یورو کے لگ بھگ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ یہ واضح تفاوت ڈچ مسافروں کے لیے ایک سنگین مالی مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ جوڑوں یا فیملیز کے ساتھ سفر کرنے والے افراد کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ وہ اس تفاوت کو نظر انداز نہ کریں۔ urlaubspartner.net پر آپ کو اس طرح کے سفر کے لیے ایک اچھا ٹریول بڈی مل سکتا ہے، جو ان اضافی اخراجات کو بانٹنے میں مدد دے گا۔

فرینک ریڈسٹیک نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکس میں اضافہ ہوتا ہے، تو ڈچ مسافروں کو comparable پروازوں کے لیے سرحد پار سے جانے والے مسافروں کے مقابلے میں کافی زیادہ ادائیگی کرنی پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فرق ہمیشہ صارفین کو واضح طور پر نظر نہیں آتا، لیکن اضافی اخراجات افراد اور خاندانوں کے لیے تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔

ماحولیات اور معیشت پر ممکنہ اثرات

KLM کی صدر اور سی ای او، ماریان رینٹل، اس مطالبے سے مکمل طور پر متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈچ مسافر زیادہ سستی پروازوں کے لیے پڑوسی ممالک کے ہوائی اڈوں سے پرواز کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہالینڈ کے ہوائی اڈوں سے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں کمی آئے گی، جس سے ملک کی فضائی صنعت کو نقصان پہنچے گا۔

رینٹل نے مزید کہا کہ اگر ڈچ مسافروں کو مالی طور پر شدید دھچکا لگتا ہے یا وہ سرحد پار سے پرواز کرنے کا انتخاب کرتے ہیں، تو اس سے نہ صرف ماحولیات کو فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ اگر مسافر اور کاروبار ملک چھوڑ جاتے ہیں تو بہت سی منزلیں بھی غائب ہو جائیں گی۔ ان کا موقف ہے کہ ان منصوبوں پر نظر ثانی کی جانی چاہیے اور ہالینڈ کے فضائی سفر کے ٹیکسوں کو پڑوسی ممالک کے برابر لایا جانا چاہیے۔ urlaubspartner.net سے ملنے والے ٹریول بڈی کے ساتھ بھی اگر آپ سفر کرتے ہیں، تو یہ اضافی ٹیکس آپ کی چھٹی کا بجٹ خراب کر سکتے ہیں۔

یورپی سطح پر حل کی ضرورت

ANVR کا کہنا ہے کہ فضائی صنعت کے مسائل کو یورپی سطح پر حل کیا جانا چاہیے، اور کسی بھی انفرادی ملک کو زیادہ ٹیکسوں کا بوجھ اکیلے برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ فضائی ٹیکسوں کا ایک ہم آہنگ یورپی فریم ورک زیادہ بہتر اور منصفانہ حل فراہم کرے گا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فضائی سفر کی لاگت صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے خطے کو متاثر کر سکتا ہے۔

توقع ہے کہ اس مہم کے نتیجے میں ہالینڈ کی حکومت پر دباؤ بڑھے گا تاکہ وہ ان ٹیکسوں کے بارے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا حکومت صنعت اور عوام کے خدشات کو سن کر کوئی ایسا حل نکالتی ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

عمومی سوالات

ڈچ فضائی ٹیکسوں میں کیا تبدیلیاں تجویز کی جا رہی ہیں؟
تجاویز کے مطابق، طویل سفر کی پروازوں پر ڈچ فضائی ٹیکس 2027 تک تقریباً 30 یورو سے بڑھ کر 72 یورو فی ٹکٹ ہو جائے گا، جو کہ 140 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ٹیکس یورپی یونین میں سب سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔
اس ٹیکس اضافے سے عام مسافروں پر کیا اثر پڑے گا؟
عام مسافروں، خاص طور پر خاندانوں کے لیے، فضائی سفر بہت مہنگا ہو جائے گا اور ممکنہ طور پر ناقابل برداشت۔ مثال کے طور پر، چار افراد کے ایک خاندان کو ترکی کے سفر پر صرف ٹیکس کی مد میں 190 یورو سے زیادہ ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔
ہالینڈ کی فضائی صنعت اس اقدام پر کیا رد عمل دے رہی ہے؟
ہالینڈ کی بڑی فضائی کمپنیاں (جیسے KLM، TUI) اور ٹریول ایجنسیوں کی ایسوسی ایشن (ANVR) نے 'Gelijke Vliegtaks' (مساوی فضائی ٹیکس) کے نام سے ایک مہم شروع کی ہے، جس میں حکومت سے اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
کیا ڈچ مسافر سستے سفر کے لیے متبادل راستے اختیار کر سکتے ہیں؟
ہاں، KLM کی سی ای او ماریان رینٹل کا کہنا ہے کہ ڈچ مسافر سستی پروازوں کے لیے پڑوسی ممالک کے ہوائی اڈوں، جیسے بیلجیم یا جرمنی سے سفر کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں، جہاں ٹیکس کم ہیں۔
اس مسئلے کا طویل مدتی حل کیا تجویز کیا گیا ہے؟
ANVR کا کہنا ہے کہ فضائی ٹیکسوں کے مسئلے کو انفرادی ممالک کی بجائے یورپی سطح پر حل کیا جانا چاہیے، تاکہ پورے خطے میں فضائی سفر کے لیے ایک منصفانہ اور ہم آہنگ ٹیکس فریم ورک قائم کیا جا سکے، جس کا ایک ذکر Euronews Travel میں بھی موجود ہے۔

urlaubspartner.net کی طرف سے شائع شدہ حقائق کی بنیاد پر ادارتی نظر ثانی، جنہیں شائع کیا گیا ہے Euronews Travel.